Monday, 3 January 2022

رات کھولے رہی کھڑکیاں دیر تک

رات کھولے رہی کھڑکیاں دیر تک

چاند کرتا رہا شوخیاں دیر تک

کل سمندر سے سورج کی باتیں ہوئیں

پھر برستی رہیں بدلیاں دیر تک

لڑکیوں تتلیوں میں یہی فرق ہے

گُل پہ رُکتی نہیں تتلیاں دیر تک

یہ بھی سوچو کہ دریا سے ہو کر جُدا

جی ہی سکتی نہیں مچھلیاں دیر تک

بادلوں نے پہاڑی قصیدہ پڑھا

گُنگناتی رہیں وادیاں دیر تک

جب درختوں پہ موسم کے پھل آ گئے

بوجھ سہتی رہیں ڈالیاں دیر تک

چڑھتے سُورج کو اِک دن زوال آئے گا

سب کی رہتی نہیں دِلیاں دیر تک

ایک قیدی جو بازو کی بیرک میں تھا

اُس کی بجتی رہیں بیڑیاں دیر تک

جیب کی وُسعتوں سے جو باہر ہوئیں

بھُوک تکتی رہی روٹیاں دیر تک


جاوید قسیم

محمد جاوید قریشی

No comments:

Post a Comment