رات کھولے رہی کھڑکیاں دیر تک
چاند کرتا رہا شوخیاں دیر تک
کل سمندر سے سورج کی باتیں ہوئیں
پھر برستی رہیں بدلیاں دیر تک
لڑکیوں تتلیوں میں یہی فرق ہے
گُل پہ رُکتی نہیں تتلیاں دیر تک
یہ بھی سوچو کہ دریا سے ہو کر جُدا
جی ہی سکتی نہیں مچھلیاں دیر تک
بادلوں نے پہاڑی قصیدہ پڑھا
گُنگناتی رہیں وادیاں دیر تک
جب درختوں پہ موسم کے پھل آ گئے
بوجھ سہتی رہیں ڈالیاں دیر تک
چڑھتے سُورج کو اِک دن زوال آئے گا
سب کی رہتی نہیں دِلیاں دیر تک
ایک قیدی جو بازو کی بیرک میں تھا
اُس کی بجتی رہیں بیڑیاں دیر تک
جیب کی وُسعتوں سے جو باہر ہوئیں
بھُوک تکتی رہی روٹیاں دیر تک
جاوید قسیم
محمد جاوید قریشی
No comments:
Post a Comment