سچ بتائیں تو سراسر نہیں دیکھا تھا کبھی
ہم نے ایسا کوئی سُندر نہیں دیکھا تھا کبھی
اور پھر اک روز اسے دیکھنے باہر آئے
حُسن کا کوئی سمندر نہیں دیکھا تھا کبھی
ہم بھی اس شخص کی آنکھوں پہ مرا کرتے تھے
جس نے آنکھیں تک اُٹھا کر نہیں دیکھا تھا کبھی
اس سے کل بات ہوئی، اور ہمیں ایسا لگا
عمر بھر ایسا سخنور نہیں دیکھا تھا کبھی
عثمان لیاقت
No comments:
Post a Comment