درد ایسا کہ دوا ہو جیسے
آج کچھ حد سے سوا ہو جیسے
تندیٔ باد حوادث توبہ
آپ کی کوئی ادا ہو جیسے
پھر وہی شخص مِرے پردے میں
ان دنوں نغمہ سرا ہو جیسے
اک دِیا کوئی جلا جاتا ہے
دل مزار شہداء ہو جیسے
کوئی لوٹا نہ سلامت اب تک
وہ گلی کوہِ ندا ہو جیسے
کوچ کا وقت ہے جاگو جابر
ہر نفس بانگِ درا ہو جیسے
رفیق جابر
No comments:
Post a Comment