Wednesday, 5 May 2021

بے نیاز بہار سا کیوں ہے

 بے نیاز بہار سا کیوں ہے

دل کو زخموں سے پیار سا کیوں ہے

وہ خفا ہیں کہ ہم غریبوں کو

غم پہ کچھ اختیار سا کیوں ہے

میری آنکھوں کے خواب تو غم ہیں

وہ مگر بے قرار سا کیوں ہے

عکس اس میں تھا کس کے چہرے کا

آئینہ سنگسار سا کیوں ہے

آہٹیں پاس آ کے دور ہوئیں

ہم کو پھر انتظار سا کیوں ہے

کیا کوئی صندلی مہک سی اڑی

دل مِرا پر خمار سا کیوں ہے

زندگی تلخ ہے بہت انجم

پھر بھی ظالم سے پیار سا کیوں ہے


غیاث انجم

No comments:

Post a Comment