Wednesday, 5 May 2021

حسین خواب سفر کے دکھا گیا ہے کون

 حسین خواب سفر کے دکھا گیا ہے کون

بدن میں آگ سی یارو لگا گیا ہے کون

اداس رات میں تارے اُبھر کے ڈُوب گئے

یہ آج بزمِ طرب سے چلا گیا ہے کون

پڑی ہوئی تھی جو بنجر زمین مدت سے

ہُنر کے پیڑ یہ اس میں اُگا گیا ہے کون

نہ اب کے موسمِ گُل کا بھی انکشاف ہوا

دِیے جلا کے یہ آنکھیں بُجھا گیا ہے کون

دل و نظر کے کرشمے نہ دیکھتے وجدان

طلب یہ عشق کی دل میں بڑھا گیا ہے کون


علی وجدان

No comments:

Post a Comment