Wednesday, 5 May 2021

بنام علم وہ سودا ہوا ہے

بنامِ علم وہ سودا ہوا ہے

اک اک دلّال شرمندہ ہوا ہے

بتانِ شہر کے ماتھے بتائیں

قلندر طیش میں آیا ہوا ہے

ہماری آنکھ دریا ہوگئی تھی

ہماری آنکھ پر قبضہ ہوا ہے

ہماری موت کے سوداگروں نے

لباسِ زندگی پہنا ہوا ہے

ہم اتنے بور کیوں ہونے لگے ہیں

ہماری حیرتوں کو کیا ہوا ہے

گریباں دیکھ کر حیرت زدہ ہیں

ہمارے ساتھ کیوں اچھا ہوا ہے

خدا فرحان کو وہ بھی دکھائے

جو منظر روح نے دیکھا ہوا ہے


فرحان عباس بابر

No comments:

Post a Comment