شاہ
میں ایک عجیب فقیرنی دربار پہ تیرے شاہ
میں منگتی تیری دید کی مجھے اور نہ کوئی چاہ
میں ترسی جس کے فرش کو وہ میری سجدہ گاہ
میری آنکھیں خالی ہو گئیں یوں اشک بہے واللہ
میرا ماتھا روشن ہو گیا تِرے فرش پہ جب رکھا
میں گُڑ سی میٹھی ہو گئی اس دُھول کو جب چکھا
مری رگ رگ معطر ہو گئی مِری پلکوں پر وہ دھول
جو دھول تمہارے پیر کی وہ دھول مہکتی پھول
میری پیشانی پر آ گیا اس فرش کا ایسا داغ
مجھے خود پہ رشک سا ہو گیا مِرے جم جم جاگے بھاگ
مِرے روم روم مہکار تھی تمہیں پل پل جب دیکھا
میرے اشک سیاہی بن گئے میں نےآپ کا نام لکھا
مِرے ایسے نکلے بخت کہ میری قسمت دیکھو واہ
مجھے شاہا تیرا فرش ملا جو میری سجدہ گاہ
تِرے پاؤں کی اُس دھول کو میرے اشکوں نے چکھا
تِرے فرش ادا ہوئے سجدے تیری چو کھٹ سجدہ گاہ
میں رہوں گی زندہ مدتوں جو عشق میں جاؤں مر
مِری بس اتنی سی چاہ ہے تِری چوکھٹ پر ہو سر
تِری آنکھیں یاد جو ائیں پھر بول کہاں جاؤں؟
وہ شہر، وہ پنڈی شہر کیا اس پار، وہاں جاؤں؟
چل اور نہیں کچھ بھی تو تِری چوکھٹ مل جائے
تُو ایک نظر جو ڈالے، میری قسمت کِھل جائے
تجھے حال سناؤں کیسے، اے محرمِ ذات بتا؟
تِرے عشق میں سُدھ بُدھ کھو دی میں نے اوڑھا رنگ سیاہ
تِرے فرش کی میں نے دُھول چھُوئی، مِرا انگ انگ دھول ہوا
میں نے پیر دھرے پتھر پر تو پتھر پھول ہوا
تِرا عشق عجب احساس ہے احساس میں زندہ ہوں
مجھے آن ملو گے ایک دن، اس آس میں زندہ ہوں
کنول ملک
No comments:
Post a Comment