Thursday, 6 May 2021

دیکھ وہ سامنے گاڑی ہے کھڑی چلتے ہیں

 دیکھ وہ سامنے گاڑی ہے کھڑی، چلتے ہیں

تُو اگر مانے، تو ہم لوگ مَری چلتے ہیں

دیکھتے ہیں وہ پہاڑ اور وہ بہتے چشمے

حبس کم ہو گا مِری مان ابھی چلتے ہیں

کس لیے اونچی مسافت سے گریزاں ہے بتا

میرے ہاتھوں کو بنا لینا چھڑی، چلتے ہیں

پہلے تجھ کو میں بناتی ہوں کوئی شہزادہ

بعد میں خود کو بناتی ہوں پری، چلتے ہیں

جن کے پاؤں میں ہو زنجیر کسی وعدے کی

نیم بسمل وہ سبھی لوگ کبھی، چلتے ہیں

کوئی مایوس نہیں آیا جہاں سے سعدی

چل، دعا مانگنے درگاہِ بَری چلتے ہیں


سعدیہ صفدر سعدی

No comments:

Post a Comment