وہ جہاں سے بھی گزرتا ہے فضا گونجتی ہے
جیسے سرسوں بھرے کھیتوں میں ہوا گونجتی ہے
حُسن اعضا کے توازن سے ہی موسوم نہیں
ان کے مابین حسینوں کی ادا گونجتی ہے
چیختا ہوں تو سنائی نہیں دیتا کچھ بھی
خامشی اوڑھ کے لیٹوں تو صدا گونجتی ہے
دل کسی اور طرف جانے نہیں دیتا مجھے
تیری جانب جوچلوں میں تو انا گونجتی ہے
سُرمئی آنکھ کا اپنا ہی فسوں ہے احمد
دل کی بیزاری الگ روح جدا گونجتی ہے
احمد ساقی
No comments:
Post a Comment