Friday, 15 October 2021

لپٹ رہی ہیں جو تجھ سے دعائیں میری ہیں

 لپٹ رہی ہیں جو تجھ سے دعائیں میری ہیں

ہوا کا شور نہیں ہے صدائیں میری ہیں

کسی بھی راہ سے تم آ سکو تو آ جانا

کہ شہر میرا ہے ساری دشائیں میری ہیں

اڑا رہے ہو یہاں جن کی دھجیاں تم بھی

یہ جان لو کہ وہ ساری ردائیں میری ہیں

مجھے تو گاؤں کی مٹی ہے جان سے بھی عزیز

وہاں کی گلیوں میں کیا کیا ادائیں میری ہیں

تمہیں تو چاندنی بن کر فضا میں گھلنا ہے

شبِ سیاہ کی ساری بلائیں میری ہیں

پہن کے جس کو ہیں اغیار سرخرو انجم

وہ سادگی سے مزین قبائیں میری ہیں


غیاث انجم

No comments:

Post a Comment