تیری ہجرتوں کا ملال تھا مگر اب نہیں
مجھے صرف تیرا خیال تھا مگر اب نہیں
تیری بے مثال محبتوں کے نثار میں
تُو زمانے بهر میں مثال تها مگر اب نہیں
جسے تُو نے درد عطا کیا، وہی آدمی
تیری قربتوں میں نہال تھا، مگر اب نہیں
تیرا ہجر میری بشارتوں کو نگل گیا
مجھے شاعری میں کمال تھا مگر اب نہیں
میں تیری تلاش میں ریزہ ریزہ بکهر گیا
وہ جنونِ شوقِ وصال تها، مگر اب نہیں
تیرے در پہ آخری بار آ کے پلٹ گیا
میری زندگی کا سوال تھا مگر اب نہیں
شکیل پتافی
No comments:
Post a Comment