ہجر نامہ
بدلتے موسم بدل رہے ہیں
ہزار رستے نکل رہے ہیں
تمہاری دستک کی منتظر ہوں
تمہیں سنانے کو گیت کتنے
لبوں پہ میرے مچل رہے ہیں
ندیم میرے
کلام میرے کلیم میرے
چلے بھی آؤ میں تھک گئی ہوں
سجا کہ رکھوں گی یہ گھر گھروندہ
مگر ادھورا ہے سیج سپنا
نہ جانے یہ کیسے ہو رہا ہے
وہ دور مجھ سے، میں دور اس سے
جو ہے جہان بھر میں ایک اپنا
حسین میرے
حریمِ دل میں مکین میرے
چلے بھی آؤ میں تھک گئی ہوں
ہر ایک نعمت کی ایک نعمت
تمہاری چاہت، تمہاری صورت
مگر تمہیں کس طرح بتاؤں
ہے فرشِ دل پہ نظر جمائے
ہماری چاہت، ہماری صورت
سہاگ میرے
حسین ملہار راگ میرے
چلے بھی آؤ میں تھک گئی ہوں
بشریٰ رحمٰن
No comments:
Post a Comment