Friday, 15 October 2021

بدلتے موسم بدل رہے ہیں

 ہجر نامہ


بدلتے موسم بدل رہے ہیں

ہزار رستے نکل رہے ہیں

تمہاری دستک کی منتظر ہوں

تمہیں سنانے کو گیت کتنے

لبوں پہ میرے مچل رہے ہیں

ندیم میرے 

کلام میرے کلیم میرے

چلے بھی آؤ میں تھک گئی ہوں

سجا کہ رکھوں گی یہ گھر گھروندہ

مگر ادھورا ہے سیج سپنا

نہ جانے یہ کیسے ہو رہا ہے

وہ دور مجھ سے، میں دور اس سے

جو ہے جہان بھر میں ایک اپنا

حسین میرے

حریمِ دل میں مکین میرے

چلے بھی آؤ میں تھک گئی ہوں

ہر ایک نعمت کی ایک نعمت

تمہاری چاہت، تمہاری صورت

مگر تمہیں کس طرح بتاؤں

ہے فرشِ دل پہ نظر جمائے

ہماری چاہت، ہماری صورت

سہاگ میرے

حسین ملہار راگ میرے

چلے بھی آؤ میں تھک گئی ہوں


بشریٰ رحمٰن

No comments:

Post a Comment