Friday, 15 October 2021

درد کے چاند کی تصویر غزل میں آئے

 درد کے چاند کی تصویر غزل میں آئے

شعر لکھوں تو یہ تاثیر غزل میں آئے

سنتے آئے ہیں بہت ذکر حسیں خوابوں کا

اب کسی خواب کی تعبیر غزل میں آئے

ان کے چہرے کو میں اس طرح پڑھا کرتا ہوں

جیسے غم کی کوئی تفسیر غزل میں آئے

کھیت کھلیان سے جب سانولی صورت لوٹے

سرمئی شام کی تنویر غزل میں آئے

اپنے کردار کا کچھ عکس تو جھلکے انجم

آئینہ کی کوئی تحریر غزل میں آئے


غیاث انجم

No comments:

Post a Comment