ہر غم کو یوں تو ضبط کیۓ جا رہا ہوں میں
اس غم کو کیا کروں کہ جیۓ جا رہا ہوں میں
لو ساتھ دے چکی شب ہجراں کا زندگی
اب شام غم کو ساتھ لیے جا رہا ہوں میں
ہاں آنکھ تر نہیں مگر آنسو کہاں سے آئیں
ہمراز خونِ دل تو پیۓ جا رہا ہوں میں
کیسا سکوں کہ دل بھی تو ہے دفن میرے ساتھ
یہ سازِ اضطراب لیے جا رہا ہوں میں
بھر بھر کے دے رہا ہے فلک تلخ جام غم
کیا ذوق ہے بلا کا پیۓ جا رہا ہوں میں
ہاں پائے صبر تھک گئے لیکن ادھر تو دیکھ
اب سجدہ ہائے شکر کیۓ جا رہا ہوں میں
مانی یہ سوزنِ نفس و رشتۂ وفا
لب ہائے شکوہ سنج سیۓ جا رہا ہوں میں
مانی جائسی
No comments:
Post a Comment