Friday, 15 October 2021

ہر غم کو یوں تو ضبط کئے جا رہا ہوں میں

 ہر غم کو یوں تو ضبط کیۓ جا رہا ہوں میں

اس غم کو کیا کروں کہ جیۓ جا رہا ہوں میں

لو ساتھ دے چکی شب ہجراں کا زندگی

اب شام غم کو ساتھ لیے جا رہا ہوں میں

ہاں آنکھ تر نہیں مگر آنسو کہاں سے آئیں

ہمراز خونِ دل تو پیۓ جا رہا ہوں میں

کیسا سکوں کہ دل بھی تو ہے دفن میرے ساتھ

یہ سازِ اضطراب لیے جا رہا ہوں میں

بھر بھر کے دے رہا ہے فلک تلخ جام غم

کیا ذوق ہے بلا کا پیۓ جا رہا ہوں میں

ہاں پائے صبر تھک گئے لیکن ادھر تو دیکھ

اب سجدہ ہائے شکر کیۓ جا رہا ہوں میں

مانی یہ سوزنِ نفس و رشتۂ وفا

لب ہائے شکوہ سنج سیۓ جا رہا ہوں میں


مانی جائسی

No comments:

Post a Comment