حسن کی آب و تاب کا موسم
عشقِ خانہ خراب کا موسم
وہ جو تھا تیرے خواب کا موسم
تھا وہ دہرے عذاب کا موسم
نہیں ہر گز نہیں قیامت یہ
ہاں فقط ہے شباب کا موسم
اس کو دیکھوں کبھی نظر بھر کے
ہے مگر یہ حجاب کا موسم
صرف خوشبو پہ ہو یقیں کیونکر
چھو کے دیکھوں گلاب کا موسم
چاند دھندلا گیا ہے کھڑکی میں
آ گیا پھر عذاب کا موسم
دل کی حسرت ہے کوئی دے پھر سے
میری آنکھوں کو خواب کا موسم
عنبرین جمیل خان
No comments:
Post a Comment