لطف ہو گر تو ہو اور مے خانہ ہو
میں ہوں، اور میرا دل دیوانہ ہو
جس زباں پر ہو تِرا افسانہ ہو
کوئی ہو، اپنا ہو یا بے گانہ ہو
یاں تو ہے دیدار سے تیری غرض
دیر ہو، کعبہ ہو یا بت خانہ ہو
جس کو دیکھا جلتے ہی دیکھا یہاں
شمع ہو، عاشق ہو یا پروانہ ہو
ہم کو تو دو گز زمیں درکار ہے
شہر ہو، بستی ہو یا ویرانہ ہو
دور ساقی میں کسے گردش نہیں
شیشہ ہو، ساغر ہو یا پیمانہ ہو
کیا قیامت ہو جو انجم حشر میں
کوئی سودائی، کوئی دیوانہ ہو
آسماں جاہ انجم
No comments:
Post a Comment