مسلسل اک مشقت بے سبب ہے
محبت بھی بہت محنت طلب ہے
تمہارا غم ہے رشتہ دار میرا
تمہاری یاد ہی میرا نسب ہے
تم آ جاتے تو اچھا تھا مگر اب
مِرے دل میں یہی اک آس کب ہے
یوں ہی آتے نہیں احوال تکنے
وہ آئے ہیں تو پھر کوئی سبب ہے
میں روشن ہوں تِرے پرتو کے باعث
مِرے چہرے پہ تیری تاب و تب ہے
قیامت کی گھڑی گزری ہے اور تُو
ابھی موجود و زندہ ہے، عجب ہے
اعزاز کاظمی
No comments:
Post a Comment