Sunday, 11 June 2023

خدا کا شکر ہے اب ابتدا بہار کی ہے

 خدا کا شکر ہے اب ابتداء بہار کی ہے

کہ رب کے سامنے یہ التجا بہار کی ہے

میں سن رہا ہوں سدا دل کی دھڑکیں اپنی

ہمارے دل میں حسیں یہ دعا بہار کی ہے

تجھےمیں ڈھونڈ رہا ہوں ابھی بہاروں میں

چلے بھی آؤ تم اب یہ صدا بہار کی ہے

میری وفا کی ابھی کوئی انتہا بھی نہیں

ابھی تو جان میری ابتداء بہار کی ہے

تمہاری جا کے شکایت یہ میں نے کی ناصر

تیری نہیں ہے تو کیا یہ خطا بہار کی ہے


ناصر شمیم

No comments:

Post a Comment