خدا کا شکر ہے اب ابتداء بہار کی ہے
کہ رب کے سامنے یہ التجا بہار کی ہے
میں سن رہا ہوں سدا دل کی دھڑکیں اپنی
ہمارے دل میں حسیں یہ دعا بہار کی ہے
تجھےمیں ڈھونڈ رہا ہوں ابھی بہاروں میں
چلے بھی آؤ تم اب یہ صدا بہار کی ہے
میری وفا کی ابھی کوئی انتہا بھی نہیں
ابھی تو جان میری ابتداء بہار کی ہے
تمہاری جا کے شکایت یہ میں نے کی ناصر
تیری نہیں ہے تو کیا یہ خطا بہار کی ہے
ناصر شمیم
No comments:
Post a Comment