Friday, 4 December 2020

میرے لہجے میں اسے محشر ملا

میرے لہجے میں اسے محشر ملا

کیا کروں جو دل مجھے پتھر ملا

جو کتابوں میں نہیں تھا وہ جواب

مجھ کو میری ذات کےاندر ملا

کتنے قابل بچے ہیں دیکھو زرا

جو ملا وہ اپنے سے بہتر ملا

کیا بتاؤں شہر کی ویرانی میں

ڈھونڈنے سے بھی نہ اپنا گھر ملا

اور کیا ہونا ہے یارو روٹھ کر

روٹھنے سے صرف دردِ سر ملا

امتحاں دنیا جدا سب کے سوال

کچھ کو غربت کچھ کو مال و زر ملا


فرحان عباس بابر

No comments:

Post a Comment