صبح نو کے لیے
برہنہ سر لیے گلیوں میں پاگلوں کی طرح
شکستہ دل لیے ہاتھوں میں
اشک آنکھوں میں
لبوں پر محشرِ خاموش، زخم سینے پر
تمام شہر کی دیوار و در سے ٹکراتی
عذابِ لغزشِ پیہم کو جان پر سہتی
اور اپنے پاؤں کی آہٹ پہ کانپتی ڈرتی
اداس، اداس، اکیلی
جواں رات کی روح
بھٹک رہی ہے مِرے ساتھ
صبح نو کے لیے
امداد حسینی
No comments:
Post a Comment