Wednesday, 5 October 2022

جواں رات کی روح بھٹک رہی ہے مرے ساتھ

 صبح نو کے لیے


برہنہ سر لیے گلیوں میں پاگلوں کی طرح

شکستہ دل لیے ہاتھوں میں

اشک آنکھوں میں

لبوں پر محشرِ خاموش، زخم سینے پر

تمام شہر کی دیوار و در سے ٹکراتی

عذابِ لغزشِ پیہم کو جان پر سہتی

اور اپنے پاؤں کی آہٹ پہ کانپتی ڈرتی

اداس، اداس، اکیلی

جواں رات کی روح

بھٹک رہی ہے مِرے ساتھ

صبح نو کے لیے


امداد حسینی

No comments:

Post a Comment