Wednesday, 6 April 2022

بہار کے دنوں میں جنگ کی باتیں

 جنگ آلود نظمیں


بہار کے دنوں میں جنگ کی باتیں

نہیں، نہیں 

میرے پھولوں کا رنگ ابھی تازہ ہے

ہوا میں ہنسی اور گیتوں کی سوندھی مہک 

دور تک پھیلی ہوئی ہے

کیا تم یہاں گولے اور بارود کا ڈھول بجاؤ گے

نہیں

مجھے کلاشنکوف کی روشنی نہیں چاہئے

میں اندھیروں میں خوش ہوں

میری آنکھیں اندازہ لگا سکتی ہیں

فاختائیں کہاں گڑی ہیں

مجھے سرخ پھولوں جیسا وقت چاہئے

اور تم اپنے نیگٹو بلڈ گروپ سے

میرے لیے سناٹا لکھنا چاہتے ہو

خدا کے لیے

مرنے کا کام اسی پر چھوڑ دو

ہم زندگی کے سکے جمع کر کے

امن خریدیں گے

خزاں سے ہمارے ستارے نہیں ملتے


سدرہ سحر عمران

No comments:

Post a Comment