Wednesday, 6 April 2022

اک گھڑی وصل کی بے وصل ہوئی ہے مجھ میں

 اک گھڑی وصل کی بے وصل ہوئی ہے مجھ میں

کس کے آنے کی خبر قتل ہوئی ہے مجھ میں

سانس لینے سے بھی بھرتا نہیں سینے کا خلا

جانے کیا شے ہے جو بے دخل ہوئی ہے مجھ میں

جل اٹھے ہیں سر مژگاں تِری خوشبو کے چراغ

اب کے خوابوں کی عجب فصل ہوئی ہے مجھ میں

💢مجھ سے باہر تو فقط شور ہے تنہائی کا

ورنہ یہ جنگ تو دراصل ہوئی ہے مجھ میں

تُو نے دیکھا نہیں اک شخص کے جانے سے سلیم

اس بھرے شہر کی جو شکل ہوئی ہے مجھ میں


سلیم کوثر

No comments:

Post a Comment