حادثے راہِ طلب میں ابھی کچھ اور بھی ہیں
قابلِ غور سوالات پسِ غور بھی ہیں
ہم نے ناموسِ وفا کو ہی رکھا پیش نظر
ورنہ جینے کے طریقے تو یہاں اور بھی ہیں
کہیں مرجھائے ہوئے پھول کہیں تازہ بہار
چند دستور پرانے بھی نئے طور بھی ہیں
انقلابات جہاں کے ہیں ہزاروں پہلو
قابلِ دید ہی کیا قابلِ صد غور بھی ہیں
مے کدہ تیری ہی جاگیر نہیں ہے ساقی
ہم بھی ہیں جام طلب تشنہ یہاں اور بھی ہیں
خار و خس کو گل و غنچہ پہ فضیلت ہو گی
گردشِ وقت کی تحویل میں وہ دور بھی ہیں
جا نہ گلزار میں پھولوں کے تبسم پہ شہاب
غم کے پابند یہاں تیری طرح اور بھی ہیں
شہاب دہلوی
No comments:
Post a Comment