Wednesday, 6 April 2022

نہر جس لشکر کی نگرانی میں تب تھی اب بھی ہے

 نہر جس لشکر کی نگرانی میں تب تھی اب بھی ہے

خیمے والوں کی جو بستی تشنہ لب تھی اب بھی ہے

اڑ رہے ہیں وقت کی رفتار سے مغرب کی سمت

وقتِ آغازِ سفر جو تیرہ شب تھی، اب بھی ہے

وقت جیسے ایک ہی ساعت پہ آ کے رک گیا

پہلے جس شدت سے جو دل میں طلب تھی اب بھی ہے

ہم شکایت آنکھ کی پلکوں سے کرتے کس طرح

داستان ظلم ورنہ یاد سب تھی، اب بھی ہے

حسن میں فطری حجابانہ روش اب ہو نہ ہو

عشق کے مسلک میں جو حد ادب تھی اب بھی ہے

روز و شب بدلیں گے اپنے کس طرح آئے یقیں

صورت حالات جو پہلے عجب تھی اب بھی ہے

ہیں بقا کے وسوسے میں ابتداء سے مبتلا

دل میں اک تشویش سی جو بے سبب تھی اب بھی ہے

نام اس کا آمریت ہو،۔ کہ ہو جمہوریت

منسلک فرعونیت مسند سے تب تھی اب بھی ہے


مرتضیٰ برلاس

No comments:

Post a Comment