Wednesday, 16 March 2022

خود سے سمٹ رہے ہیں یہ ٹوٹے ہوئے سے لوگ

 خود سے سمٹ رہے ہیں یہ ٹوٹے ہوئے سے لوگ

اتنی کشش سکھائیں گے پارے تماش بیں

سائے نے مجھ پہ طنز کیا ڈھلتی شام میں

سورج بھی آسماں سے اتارے تماش بیں

ہم نے بھنور کی آنکھ میں ڈالی ہے آنکھ بھی

موجیں ہیں مضطرب تو کنارے تماش بیں

دیمک کی آنکھ میں ہے برادہ تو شور کیا

پنچھی اڑا کے چیختے آرے تماش بیں

دیوارِ گریہ جان کے ہم سے لپٹ گئے

روئے ہیں پھوٹ پھوٹ کے سارے تماش بیں

اصحابِ کہف کا ہمیں قطمیر جانئے

یوں عرصۂ دراز گزارے تماش بیں

منظر کے بدلے روپ نے مبہوت کر دیا

اس نے کہا کہ؛ آؤ ہمارے تماش بیں

ہم نے زبورِ دل کو ہے چوما ورق ورق

ہم بھی سخن سرا، تُو بھی گا رے تماش بیں

پھر حشر اور اٹھا کے تماشہ کچھ اور ہو

شیشوں پہ سنگ اٹھا کے بھی مارے تماش بیں


علیم اطہر

No comments:

Post a Comment