خود سے سمٹ رہے ہیں یہ ٹوٹے ہوئے سے لوگ
اتنی کشش سکھائیں گے پارے تماش بیں
سائے نے مجھ پہ طنز کیا ڈھلتی شام میں
سورج بھی آسماں سے اتارے تماش بیں
ہم نے بھنور کی آنکھ میں ڈالی ہے آنکھ بھی
موجیں ہیں مضطرب تو کنارے تماش بیں
دیمک کی آنکھ میں ہے برادہ تو شور کیا
پنچھی اڑا کے چیختے آرے تماش بیں
دیوارِ گریہ جان کے ہم سے لپٹ گئے
روئے ہیں پھوٹ پھوٹ کے سارے تماش بیں
اصحابِ کہف کا ہمیں قطمیر جانئے
یوں عرصۂ دراز گزارے تماش بیں
منظر کے بدلے روپ نے مبہوت کر دیا
اس نے کہا کہ؛ آؤ ہمارے تماش بیں
ہم نے زبورِ دل کو ہے چوما ورق ورق
ہم بھی سخن سرا، تُو بھی گا رے تماش بیں
پھر حشر اور اٹھا کے تماشہ کچھ اور ہو
شیشوں پہ سنگ اٹھا کے بھی مارے تماش بیں
علیم اطہر
No comments:
Post a Comment