Wednesday, 16 March 2022

راستے سکھاتے ہیں کس سے کیا الگ رکھنا

 راستے سکھاتے ہیں کس سے کیا الگ رکھنا

منزلیں الگ رکھنا قافلہ الگ رکھنا

بعد ایک مدت کے لوٹ کر وہ آیا ہے

آج تو کہانی سے حادثہ الگ رکھنا

جس سے ہم نے سیکھا تھا ساتھ ساتھ چلنا ہے

اب وہی بتاتا ہے نقش پا الگ رکھنا

کوزہ گر نے جانے کیوں آدمی بنایا ہے

اس کو سب کھلونوں سے تم ذرا الگ رکھنا

لوٹ کر تو آئے ہو تجربوں کی صورت ہے

پر مِری کہانی سے فلسفہ الگ رکھنا

تم تو خوب واقف ہو اب تمہی بتاؤ نا

کس میں کیا ملانا ہے کس سے کیا الگ رکھنا

خواہشوں کا خمیازہ خواب کیوں بھریں عادل

آج میری آنکھوں سے رت جگا الگ رکھنا


عادل رضا منصوری

No comments:

Post a Comment