خون کی تاثیر یوں ناکام ہے
پانچویں دیوار زیرِ بام ہے
فاصلے کا دکھ اگر تسلیم ہو
راستے کی گرد بھی انعام ہے
آگہی سے کون سا عقدہ کھلے
آگہی ابہام در ابہام ہے
اک دیے کی گھورتی لو کے سبب
اک چمکتا چاند بھی بدنام ہے
آپ نے کی ہے مذمت دیر سے
بے وفائی شہر میں اب عام ہے
رت جگے میں صبح مت انڈیلیۓ
ہمسروں کے حلق میں اک شام ہے
وہ کسی ساگر کی بپھری موج ہے
یا کسی ساغر میں بہتا جام ہے
ساگر حضورپوری
No comments:
Post a Comment