دنیا کے ہر بشر سے سدا دوستی ہوئی
دشمن سے بھی کبھی نہ مِری دشمنی ہوئی
قائل نہیں ہوں پیار میں توحید کا میاں
چہرہ حسین جو بھی مِلا دل لگی ہوئی
مثلِ نسیمِ صبح وہ گزرا تھا پاس سے
پھولوں کی طرح زیست ہے میری کِھلی ہوئی
کھویا رہا میں ذاتِ پری وش میں اس قدر
اپنی ہی ذات میرے لیے اجنبی ہوئی
اُترا تھا ایک چاند مِری آنکھ میں کبھی
محفل ہے زندگی کی مسلسل سجی ہوئی
خونِ جگر سے اہلِ نظر نے جلائے دیپ
ویسے نہیں جہان میں یہ روشنی ہوئی
پہنا رکھی پسر کو ہے اچھے برانڈ کی
دیکھو مگر ہے باپ کی جوتی پھٹی ہوئی
یہ معجزہ ہے ماں کی دعاؤں کا اشتیاق
چاروں طرف مکاں میں ہے خوشبو بسی ہوئی
اشتیاق احمد یاد
No comments:
Post a Comment