Saturday, 17 July 2021

ہم جیسے جی رہے ہیں ہم کو ویسے جینے دو

ہم کو آگہی نہ دو


ہم جیسے جی رہے ہیں

ہم کو ویسے جینے دو

یہ جو آگہی کے دُکھ ہوتے ہیں

وہ رُوح کو زخمی کر دیتے ہیں

اور اب تک صرف 

جسموں کے علاج کی ریسرچ ہوئی ہے

اور وہ ریسرچ بھی کیا

کہ ڈاکٹرز ایک مرض درست کر کے

دوسرا مرض اگا دیتے ہیں

یہ جو آگہی ہے

یہ تو ناسور سے بھی بد تر ہے

یہ تو ہنستے بستے انسان کو

رُلا دیتی ہے

اُجاڑ دیتی ہے

یہ جو اندھیرا ہے نا جہالت کا

وہ فی الوقت کتنا سکون بخش ہے

بچپن کے کھلونوں سے جی بہلانے جیسا

یہ جو دنیا ہے نا

اس کے کیا کیا عذاب ہیں

کہاں کہاں جنگیں ہو رہی ہیں

اور اس کے محرکات کیا کیا ہیں

انسان ہی انسان کو مار رہے ہیں

یہ جو کائنات ہے نا

اس میں کتنا پانی بچا ہے

کتنی آکسیجن باقی ہے

کتنے سیارے خلاؤں میں 

زمین کو کھانے کے لیے گھوم رہے ہیں

یہ جو آگہی ہے نا

یہ تو جیتے جی مار رہی ہے

اب ہم جیتے کب ہیں

ہم تو جینے کے لیے فلسفے بنتے رہتے ہیں

ہم تو جینے کے لیے سیارے ڈھونڈتے رہتے ہیں

ہم تو جینے کی اداکاری کرتے ہیں

ہم کو آگہی نہ دو


مریم تسلیم کیانی

No comments:

Post a Comment