Saturday, 17 July 2021

مجھے بھی ہیں بڑے شکوے سناؤں کیا چلو چھوڑو

 مجھے بھی ہیں بڑے شکوے، سناؤں کیا، چلو چھوڑو

درختوں پر لکھے وعدے، مٹاؤں کیا، چلو چھوڑو

کبھی شعلہ، کبھی شبنم، کبھی انجان راہوں میں

دلِ عُشاق کی باتیں، بتاؤں کیا، چلو چھوڑو

گواہی دیتے رہتے ہیں، بدن پر جب بھی سجتے ہیں

مِری جاں رِستے زخموں کو، چھپاؤں کیا، چلو چھوڑو

مجھے پاسِ وفا مجبور کرتا ہے، تو پھر جاناں

تجھے تیری نگاہوں میں، جُھکاؤں کیا، چلو چھوڑو

لپکتے کچھ شرارے عشق کے ہیں، راکھ سُلگاتے

یہ راکھ اب میں، دباؤں کیا، اُڑاؤں کیا، چلو چھوڑو

تلاطم اب نہیں جذبات میں، دریا بھی ٹھہرا ہے

کناروں پر میں آؤں کیا، میں جاؤں کیا، چلو چھوڑو

تجھے سوچوں، تجھے کھوجوں، تجھے لکھوں غنیم اپنا

تجھی سے تیری باتیں سب، چُھپاؤں کیا، چلو چھوڑو


لبنیٰ مقبول غنیم

No comments:

Post a Comment