Saturday, 17 July 2021

ہم پہ اگرچہ بھاری گزری پھر بھی تھی کیا پیاری رات

 ہم پہ اگرچہ بھاری گزری پھر بھی تھی کیا پیاری رات

آپ بھی تڑپی ساتھ ہمارے آپ بھی جاگی ساری رات

جیسے جیسے رات ڈھلی ہے، درد کی لذت اور بڑھی

یادوں کی خوشبو میں بسا کر ہم نے خوب سنواری رات

تیرے خیالوں کے پردے سے جب غمِ دنیا جھانک اُٹھا

رُک گئی جیسے وقت کی گردش ہو گئی دل پر بھاری رات

آپ نہ مانیں، آپ نہ سمجھیں، آپ پہ دل کا زور نہیں

ہم نے اپنا درد کہا ہے، آپ سے ساری ساری رات

شام سے کلیاں درد کی مہکیں جلتے رہے اشکوں کے چراغ

جیسے صبا گلزار سے گزرے، ہم نے ایسے گزاری رات


خورشید الاسلام

No comments:

Post a Comment