وہ ہی ہے رہ گزر جانا ہے پڑتا
ضروری ہے سفر جانا ہے پڑتا
محبت پُر خطر وہ راستا ہے
جہاں پر بے خطر جانا ہے پڑتا
تيرے ہر حکم کی تعميل کر کے
مجھے جاں سے گزر جانا ہے پڑتا
قبر ہے منتظر کب سے تمہاری
نا ضد پر اڑ بشر! جانا ہے پڑتا
دلوں سے جو بھی گِرتے ہیں انہیں پھر
نظر سے بھی اُتر جانا ہے پڑتا
اے میری روح کے وجدان تُو سن
خِرد کو کر خبر جانا ہے پڑتا
اسی نے دل پے میرے گھاؤ ڈالے
رہا جو چارہ گر جانا ہے پڑتا
فہم فاقہ زدہ ہو جائے تو پھر
ملے کیونکر ثمر جانا ہے پڑتا
میری سب اُلجھنیں سُلجھائے گر تُو
رہوں کیوں منتشر جانا ہے پڑتا
دلوں کے درد یہ برباد کر دیں
نہ لیں بے شک اثر جانا ہے پڑتا
قدم بهی ساتھ اب دیتے نہیں پر
کروں بھی کیا اُدھر جانا ہے پڑتا
ہوا کے ہاتھ میں پھر میں ہوں سیما
بھلے جاؤں بکھر، جانا ہے پڑتا
سیما عباسی
No comments:
Post a Comment