Saturday, 17 July 2021

بہت اداس ہے ماہ تمام کس کے لیے

 بہت اُداس ہے ماہِ تمام کس کے لیے؟

رکی ہوئی ہے منڈیروں پہ شام کس کے لیے

بُھلا کے خود کو چلو گہری نیند سوتے ہیں

اگر کریں بھی تو نیندیں حرام کس کے لیے

کہ اس دیار میں کون آیا ہے؟ جو آئے گا

ہمیں بتاؤ کہ یہ اہتمام کس کے لیے؟

انہیں بھی کاش، کسی روز یہ پتہ تو چلے

بنے ہیں شوق سے ہم بھی غلام کس کے لیے

وہ کوئی اور نہیں ہے تو ایک بات بتا؟

چھلک رہے ہیں نگاہوں کے جام کس کے لیے


راشد انور

No comments:

Post a Comment