Saturday, 17 July 2021

بزرگوں سے سنے قصے ہمیں اب یاد آتے ہیں

 بزرگوں سے سُنے قصے ہمیں اب یاد آتے ہیں

وبا میں تھر اُجڑتے ہیں ہزاروں کھیت جاتے ہیں

درود و فاتحہ میں کوئی آتا ہے، نہ جاتا ہے

نہ دسویں، بیسویں، چالیسویں میں اب بُلاتے ہیں

پتہ کرتے ہیں خیریت و عافیت کچھ فاصلہ رکھ کر

گلے مِلتے ہیں اپنوں سے، نہ ہاتھوں کو ملاتے ہیں

سمجھتے تھے صدا دے کر بُرا، گھر سے بلانے کو

نہ کُنڈی کھٹکھاتے ہیں، نہ اب گھنٹی بجاتے ہیں

کسے معلوم؟ کب کس نام کی پرچی نکل آئے

ابھی بھی وقت ہے خسرو اسی سے لو لگاتے ہیں


فیروز ناطق خسرو

No comments:

Post a Comment