Friday, 16 July 2021

اک خلش اک کرب پنہاں میری خاکستر میں ہے

 اک خلش اک کرب پنہاں میری خاکستر میں ہے

میرا دشمن حادثہ یہ ہے کہ میرے گھر میں ہے

کون کس کے اشک پونچھے کون کس کا دکھ بٹائے

جو ہے وہ محرومیوں کے گنبد بے در میں ہے

ضربِ تیشہ چاہئے اور دست‌ِ آزر چاہئے

اک جہانِ خال و خد خوابیدہ ہر پتھر میں ہے

اس زمانے میں مِری سادہ دلی میرا خلوص

ایک منظر ہے مگر بے ربط پس منظر میں ہے

بیچ دی خاور یہاں یاروں نے ناموسِ وفا

تُو بھی پیارے کس بُھلاوے میں ہے کس چکر میں ہے


خاور رضوی

No comments:

Post a Comment