Tuesday, 11 January 2022

کہانی بس اتنی سی تھی کہ کہانی کچھ تھی ہی نہیں

 کہانی بس اتنی سی تھی


کہانی تو میری کچھ تھی ہی نہیں

کہ میری یہ زندگی تو میری تھی ہی نہیں

یہ تو بس آتے جاتے لوگوں کی راہداری تھی

یا ایک بس اسٹاپ تھا

جہاں کچھ دیر کو لوگ آتے تھے

اور چلے جاتے تھے

جیسے ایک ہوٹل تھا جہاں کچھ دیر کے لیے لوگ ٹھہرتے تھے

اور میں ان کو اپنی کہانی میں کچھ دیر کردار رکھتی تھی

کہانی میری تھی ہی کیا

میرا اپنا کردار تو سب میں بٹا ہوا تھا

جو دکھائی کسی کو نہ دیتا تھا

میں اپنی زندگی کی کہانی میں ہی خود

ایک کردار کو جنم دیتی تھی

ایک کردار کو مارتی تھی

میری کہانی بھی کتنی عجیب تھی

کہ اس میں اصل اور خالص کچھ تھا ہی نہیں

ایک گھڑی ہوئی نقلی اور بناوٹی زندگی

کے علاوہ

کہانی تو بس اتنی سی تھی

کہ کہانی کچھ تھی ہی نہیں


مریم تسلیم کیانی

No comments:

Post a Comment