ہر اذیت کے آخری دن ہیں
جارحیت کے آخری دن ہیں
آ بسے ہیں خدا زمینوں پر
آدمیت کے آخری دن ہیں
کوٸی سُنتا نہیں بزرگوں کی
اب نصیحت کے آخری دن ہیں
نقص دِکھنے لگے ہیں لوگوں کے
کاملیت کے آخری دن ہیں
نفرتوں کو دوام حاصل ہے
اور مَحبت کے آخری دن ہیں
بھرنے والا ہے مِرا دل اس سے
جاذبیت کے آخری دن ہیں
کامران حیدر
No comments:
Post a Comment