Tuesday, 11 January 2022

ہر اذیت کے آخری دن ہیں

 ہر اذیت کے آخری دن ہیں

جارحیت کے آخری دن ہیں

آ بسے ہیں خدا زمینوں پر

آدمیت کے آخری دن ہیں

کوٸی سُنتا نہیں بزرگوں کی

اب نصیحت کے آخری دن ہیں

نقص دِکھنے لگے ہیں لوگوں کے

کاملیت کے آخری دن ہیں

نفرتوں کو دوام حاصل ہے

اور مَحبت کے آخری دن ہیں

بھرنے والا ہے مِرا دل اس سے

جاذبیت کے آخری دن ہیں


کامران حیدر

No comments:

Post a Comment