Tuesday, 11 January 2022

شاعری روٹھ گئی ہے مجھ سے

 شاعری رُوٹھ گئی ہے مجھ سے


شاعری رُوٹھ گئی ہے مجھ سے

آسماں چُپ ہے زمیں بات ہی نہیں کرتی

بہتا پانی کسی اُمید پر آمادہ نہیں

خوش نہیں آتا کوئی لفظ، کوئی دروازہ

کیسے بچھڑے ہوئے لوگوں کی خبر لاتے ہیں

کس طرح رُوٹھے ہوئے شخص کو گھر لاتے ہیں

شہد کی مکھیاں پھولوں کی طرف جاتی ہیں

ایک فوارے کے نزدیک شجر گِنتا ہوں

شاعری رُوٹھ گئی ہے مجھ سے


ثروت حسین

No comments:

Post a Comment