Tuesday, 15 December 2020

چاند کی تمنا میں دور تک گئی

 حاصلِ تمنا


چاند کی تمنا میں

دور تک گئی مگر لوٹ آئی

خوابوں کی دنیا حسین ہے

مگر مجھے عزیز اپنی زمین ہے

اس کے دکھ

اس کی خوشیاں

اچھی ہیں کہ پاس ہیں

خواب تو پل میں ٹوٹ جاتے ہیں

اور ٹوٹ کر بکھر جاتے ہیں

بکھر کر انجانے دکھ دے جاتے ہیں

جیسے کسی کو چاہنے کا دکھ

جیسے کسی کو کھو دینے کا دکھ

جیسے کسی سے بچھڑ جانے کا دکھ

جیسے کوئی بچہ ہو

اپنے کھلونے ٹوٹ جانے پر اداس


مریم تسلیم کیانی

No comments:

Post a Comment