Tuesday, 15 December 2020

میرے بعد اور کوئی مجھ سا نہ آیا ہو گا

 میرے بعد اور کوئی مجھ سا نہ آیا ہو گا

اس کے دروازے پہ اب تک مرا سایا ہو گا

جب بھی آئینہ نے منہ اس کو چڑھایا ہو گا

کیسے خوابوں کی حقیقت کو چھپایا ہو گا

اس نے بھرپور نظر جس پہ بھی ڈالی ہو گی

چاند نے اس کو کلیجے سے لگایا ہو گا

کس طرح قتل کیا ہو گا مری یادوں کو

کتنی مشکل سے مجھے اس نے بھلایا ہو گا

جب چلی ہو گی کہیں بات کسی شاعر کی

اس کے ہونٹوں پہ مرا نام تو آیا ہو گا

جو مرے بارے میں سوچے گا ہر اک پہلو سے

وہ مرا اپنا نہیں ہو گا، پرایا ہو گا

اس کی پلکوں کا تبسم یہ پتہ دیتا ہے

اس نے آنکھوں میں کوئی خواب سجایا ہو گا

سوچتا ہوں کہ وہ انسان بہ نام ہستی

کیسے انگاروں کی بارش میں نہایا ہو گا

زندگی اس کی سلگتا ہوا صحرا ہو گی

جو تری آنکھوں پہ ایمان نہ لایا ہو گا

تیری آنکھوں میں سمایا ہے جو رنگوں کی طرح

ہو نہ ہو میرے خیالات کا سایا ہو گا

تم نے قیصر مرے احساس کے ویرانے میں

میرے خوابوں کو تڑپتا ہوا پایا ہو گا


قیصر صدیقی

No comments:

Post a Comment