میرے بعد اور کوئی مجھ سا نہ آیا ہو گا
اس کے دروازے پہ اب تک مرا سایا ہو گا
جب بھی آئینہ نے منہ اس کو چڑھایا ہو گا
کیسے خوابوں کی حقیقت کو چھپایا ہو گا
اس نے بھرپور نظر جس پہ بھی ڈالی ہو گی
چاند نے اس کو کلیجے سے لگایا ہو گا
کس طرح قتل کیا ہو گا مری یادوں کو
کتنی مشکل سے مجھے اس نے بھلایا ہو گا
جب چلی ہو گی کہیں بات کسی شاعر کی
اس کے ہونٹوں پہ مرا نام تو آیا ہو گا
جو مرے بارے میں سوچے گا ہر اک پہلو سے
وہ مرا اپنا نہیں ہو گا، پرایا ہو گا
اس کی پلکوں کا تبسم یہ پتہ دیتا ہے
اس نے آنکھوں میں کوئی خواب سجایا ہو گا
سوچتا ہوں کہ وہ انسان بہ نام ہستی
کیسے انگاروں کی بارش میں نہایا ہو گا
زندگی اس کی سلگتا ہوا صحرا ہو گی
جو تری آنکھوں پہ ایمان نہ لایا ہو گا
تیری آنکھوں میں سمایا ہے جو رنگوں کی طرح
ہو نہ ہو میرے خیالات کا سایا ہو گا
تم نے قیصر مرے احساس کے ویرانے میں
میرے خوابوں کو تڑپتا ہوا پایا ہو گا
قیصر صدیقی
No comments:
Post a Comment