Tuesday, 15 December 2020

آج جس پر یہ پردہ داری ہے

 آج جس پر یہ پردہ داری ہے

کل اسی کی تو دعوے داری ہے

آئینہ مجھ سے کہہ رہا ہے یہی

میرے چہرے پہ بے قراری ہے

آج وعدہ وہ پھر نبھائے گا

وادی و گل پہ کیا خماری ہے

تیری آنکھیں یہ صاف کہتی ہے

رات کتنی حسیں گزاری ہے


وسیم اکرم جوئیہ

No comments:

Post a Comment