Tuesday, 13 July 2021

سمے کی نبض رکتی ہے گھماؤ ختم ہوتا ہے

 سمے کی نبض رکتی ہے گھماؤ ختم ہوتا ہے

کجاوے کس لیے جائیں، پڑاؤ ختم ہوتا ہے

ہمیں شام و سحر درپیش اک تازہ مصیبت ہے

ہم ایسوں کا تو مر کر ہی تناؤ ختم ہوتا ہے

بچا ہی کیا ہے اب اپنے بدن کے ڈھیر ہونے میں

عصا دیمک رسیدہ سے ٹکاؤ ختم ہوتا ہے

قبیلے ختم ہونے میں ذرا سی دیر لگتی ہے

زبانِ خلق سے جب رکھ رکھاؤ ختم ہوتا ہے

تمہارے حسن کے آگے ہمارا عشق ناقص ہے

لہٰذا شوقِ کامل عشق جاؤ ختم ہوتا ہے

نگاہوں کے دو آبہ سے یقیناً دشت گزرے گا

ہماری سمت خوابوں کا بہاؤ ختم ہوتا ہے

تعلق رشتۂ مریم سے نازک تر ہے اے تحسین

ہوائے وہم سے اس کا نبھاؤ ختم ہوتا ہے


یونس تحسین

No comments:

Post a Comment