Tuesday, 13 July 2021

مصالحت سے یہ قصہ نمٹ بھی سکتا ہے

 مصالحت سے یہ قصہ نمٹ بھی سکتا ہے

لباس صلح کرانے میں پھٹ بھی سکتا ہے

تم اپنے کرب کا اظہار کر بھی سکتی ہو

پیاز کاٹ کے یہ وقت کٹ بھی سکتا ہے

تُو جس کی فتح کے نعرے لگانا چاہتا ہے

خراج لے کے وہ لشکر پلٹ بھی سکتا ہے

ہے اختیار میں تھوڑی گناہِ عالمِ وجد

کسی سے آدمی جا کر لپٹ بھی سکتا ہے

اگر تمہیں کوئی خطرہ نہیں ہے جنگل میں

یہ خیمہ حسبِ ضرورت سمٹ بھی سکتا ہے


اظہر فراغ

No comments:

Post a Comment