Sunday, 4 July 2021

ساتھ دیں لوگ پھر بھی تنہائی

ساتھ دیں لوگ پھر بھی تنہائی

یعنی میں اور میری تنہائی

مجھ کو خود سے سوال کرنے ہیں

مجھ کو دے دو نہ تھوڑی تنہائی

تُو اکیلا کہاں ہے میں ہوں نا

مجھ سے آ کر کے بولی تنہائی

میں بھی موجود اب نہیں خود میں

بھر چکی مجھ میں اتنی تنہائی

کس نے کی ہیں یہ بوتلیں خالی

پی گیا کون اپنی تنہائی؟


شاد صدیقی

No comments:

Post a Comment