Sunday, 18 April 2021

وصل کا بیج بو نہیں پایا

 وصل کا بیج بو نہیں پایا

رات زندہ تھا، سو نہیں پایا

فانی دنیا کے اس مسافر نے

وہ بھی کھویا ہے جو نہیں پایا

میری آنکھوں میں خواب بستے ہیں

زندگی بھر میں رو نہیں پایا

رقص کرتا ہوں میں اداسی میں

میں نے محبوب کو نہیں پایا

اس نے مجھ سے کہا ملو احمد

اور مجھ سے یہ ہو نہیں پایا


احمد طارق

No comments:

Post a Comment