Sunday, 18 April 2021

فصیل شہر کو جب تک گرا نہیں دیں گے

فصیل شہر کو جب تک گرا نہیں دیں گے

ہمیں یہ لوگ کبھی راستہ نہیں دیں گے

تمام عمر جو چہرے کو اپنے پڑھ نہ سکے

ہم ان کے ہاتھوں میں اب آئنہ نہیں دیں گے

گھٹن ہو ایسی کہ تم کھل کے سانس لے نہ سکو

تمہیں ہم اس سے زیادہ سزا نہیں دیں گے

تجھے ڈبوئیں گے خود تیرے حاشیہ بردار

ہم اپنی راہ سے تجھ کو ہٹا نہیں دیں گے

یہ بزم شعر و ادب کب کسی کی ہے میراث

جو نسل گونگی ہو ہم جائزہ نہیں دیں گے

وہ جن کے نام سے ہم زہر پی گئے نیر

ہم ان کے حق میں کبھی بد دعا نہیں دیں گے


صلاح الدین نیر

No comments:

Post a Comment