کچھ لطف خموشی میں نہ آہوں میں مزا ہے
بے کیفیٔ دل ان دنوں کچھ حد سے سوا ہے
ہے لطف خموشی میں نہ آہوں میں مزا ہے
بے کیفئ دل ان دنوں حد سے سوا ہے
بے خود کئے رہتی ہے تصور کی فضا میں
اپنی شبِ تنہائی کا عالم ہی جدا ہے
اک ربط محبت ہی کا احساس ہے دل میں
کچھ اور نہ احساسِ جفا ہے نہ وفا ہے
اے دوست! میں کیا محویتِ دل کو چھپاؤں
جب حسن تصور ہی ترا ہوش ربا ہے
اے عارفی! ہے راہِ محبت بھی عجب راہ
رہبر ہے جہاں کوئی نہ منزل کا پتا ہے
عبدالحئی عارفی
اس غزل کے دو مطلعے دیکھے، پہلے والا کون سا اور آخری اس بحث سے بچنے کے لیے میں نے دونوں نقل کر دئیے ہیں۔
No comments:
Post a Comment