یہ میرے اشعار یہ ضرباتِ قلبِ بے قرار
ہیں میرے وجدانِ حسن و عشق کے آئینہ دار
شاعری ہے میری تنہائی کا اک شغل لطیف
اپنے بزمِ دل کا خود ساقی ہوں خود ہوں مے گسار
جب ہوا کچھ کیف دل میں کہہ لیے دوچار شعر
پھر بقدرِ ذوق اس کو پڑھ لیا دو چار بار
عمربھر میں نے چھپایا ان کو مثلِ رازِ دل
کیا سرِ محفل سناتا ماجرائے ناگوار
یہ نوائے تلخ و شیرین یہ فغانِ گرم و سرد
کیوں کسی اہلِ نظر کی طبعِ نازک پہ ہو بار
میں ہوں جس عالم میں رہنے دو مجھے اے عارفی
محفلِ اہلِ ہنر سے دور اور بیگانہ وار
عبدالحئی عارفی
No comments:
Post a Comment