عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ بر امام حسینؑ
حسینؑ سید، حسینؑ آقا
حسین ملجا، حسین ماویٰ
حسین مرشد، حسین مولیٰ
حسین اعلیٰ، حسین اولیٰ
حسین مہر و وفا کی ہستی
حسین صبر و رضا کی ہستی
حسین جود و سخا کی ہستی
حسین شرم و حیا کی ہستی
حسین دیں ہے حسین ایماں
حسین دل ہے حسین ہے جاں
حسین ایثار میں نمایاں
حسین خوشبو ہے اور گلستاں
حسین باغِ نبیﷺ کی خوشبو
حسین میرے علیؑ کی خوشبو
حسین سے ہر ولی کی خوشبو
حسین ہے زندگی کی خوشبو
حسین مالک ہے خُلد کا بھی
حسین منزل ہے راستا بھی
حسین سایہ ہے اور گھٹا بھی
حسین بخشش ہے اور عطا بھی
حسین قرآں کے جیسی آیت
حسین عزت حسین عظمت
حسین میرے نبی کی چاہت
حسین ہم سب کی ہے محبت
حسین دیں کا خراج بھی ہے
حسین سچ کا مزاج بھی ہے
حسین زندہ تھا آج بھی ہے
حسین ملت کا تاج بھی ہے
حسین جنت کا شاہزادہ
حسین پاکی کا ہے لبادہ
حسین سید کا خانوادہ
حسین ہے زندگی کا جادہ
حسین امت کی آبرو ہے
حسین حق سچ کی گفتگو ہے
حسین باطل کے دوبدو ہے
حسین تاحشر سرخرو ہے
حسین عظمت کا استعارہ
حسین پیارا بہت ہی پیارا
حسین بس ایک ہی ستارہ
حسین بنتا نہیں دوبارہ
حسین وحدت کا جام نادر
حسین عالی مقام نادر
حسین میرا امام نادر
حسین کو ہے سلام نادر
نادر صدیقی
No comments:
Post a Comment