Wednesday, 21 April 2021

سوگ ہم اپنی تباہی کا منانے لگ جائیں

سوگ ہم اپنی تباہی کا منانے لگ جائیں

اتنے ٹوٹے بھی نہیں ہیں کہ ٹھکانے لگ جائیں

اس لیے خود کو تِرے در سے جڑا رکھا ہے

کم سے کم عشق کہ آداب تو آنے لگ جائیں

ہم سے کچھ لوگ جو زندہ نہ رکھیں روشنیاں

روشنی والے چراغ اپنے بُجھانے لگ جائیں

ہم نے اس عمر میں جو درد اٹھا رکھے ہیں

آپ اگر سوچنے بیٹھیں تو زمانے لگ جائیں

پھر تو میں بولنے لگ جاؤں گا سورج کے خلاف

چند جگنو جو مِرے ہاتھ میں آنے لگ جائیں

تُو نے ارشاد کی الفت کا بھرم توڑا ہے

جا تِرے پیچھے کئی اور دِوانے لگ جائیں


ارشاد انجم​

No comments:

Post a Comment